ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رام نگرم ضلع بی جے پی شدید انتشار کا شکار، ضلعی صدر کی پارٹی چھوڑنے کی دھمکی کے بعد منانے کی کوشش

رام نگرم ضلع بی جے پی شدید انتشار کا شکار، ضلعی صدر کی پارٹی چھوڑنے کی دھمکی کے بعد منانے کی کوشش

Sat, 03 Nov 2018 22:08:44    S.O. News Service

بنگلورو، 3؍نومبر (ایس او نیوز) رام نگرم اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی امیدوار کے میدان سے ہٹ جانے کے فوراً بعد آج بی جے پی اس وقت اس ضلع میں ایک اور زبردست جھٹکا تب لگا جب ضلع بی جے پی صدر ردریش نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

ردریش نے بتایا کہ بی جے پی کی ریاستی قیادت میں میدان سے ہٹنے والے امیدوار چندر شیکھر کو میدان میں اتارنے کے دوران ضلعی یونٹ سے مشورہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، اب جبکہ پارٹی میں شامل ہونے کے صرف دس دنوں بعد دغا کرکے چندر شیکھر نے اپنی امیدواری واپس لے لی اور کانگریس میں لوٹ گئے تو اس کے لئے ضلعی قیادت کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ ردریش نے کہا کہ پارٹی لیڈروں کے رویئے سے نالاں انہوں نے ضلع بی جے پی صدارت اور پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ، تاہم بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صد ر بی ایس یڈیورپاکی مداخلت کے بعد ردریش نے پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑنے کے فیصلے کو ملتوی کردیا۔

ردریش نے پارٹی کی ریاستی یونٹ پر رام نگرم حلقے کے ضمنی انتخاب کو نظر انداز کرنے کے متعلق چندر شیکھر کے الزام کی تصدیق کی اور کہاکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انتخابات کی ذمہ داری پارٹی کے جس تنظیمی سکریٹری کو دی گئی تھی انہوں نے اس حلقے کا رخ تک نہیں کیا۔ انتخابات کے مرحلے میں پارٹی کارکنوں کو سمجھانا انہیں اور امیدوار کے لئے بھی مشکل ہوگیاتھا۔ اس دوران رام نگرم اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب میں کسی بھی پولنگ بوتھ میں بی جے پی کے پولنگ ایجنٹوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ میدان سے ہٹنے والے امیدوار چندر شیکھر نے اپنے کسی پولنگ ایجنٹ کو اجازت دینے کے متعلق منظوری نامہ الیکشن کمیشن کو پیش نہیں کیاتھا، رام نگرم حلقے کے سبھی 277 پولنگ بوتھوں میں بی جے پی کا ایک بھی ایجنٹ موجود نہیں تھا۔ 


Share: